NewsHub

داعش سے روابط پر دو نوجوانوں کی گرفتاری‘چندرائن گٹہ اور شاہین نگر میں سنسنی

حیدرآباد ۔ /12 اگست (سیاست نیوز) نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی جانب سے پرانے شہر میں کارروائی کے دوران گرفتار کئے گئے نوجوان محمد عبداللہ باسط کا داعش سے مبینہ رابطے سے متعلق دوسرا مقدمہ ہے ۔ این آئی اے نے آج اس نوجوان کی گرفتار کی توثیق کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ وہ سابق میں دہلی میں گرفتار شیخ اظہر الاسلام محمد فرحان شیخ اور عدنان حسن سے رابطے میں تھے جو مبینہ داعش کے حامی ہے اور اس سلسلے میں انہیں 7 سال کی سزاء بھی ہوئی ہے ۔ محمد عبداللہ باسط کو /6 اگست سے مسلسل این آئی اے کے دفتر واقع بیگم پیٹ طلب کیا جارہا تھا اور آج گرفتاری کا اعلان کیا گیا ۔ عبداللہ باسط کو سال 2015 ء میں حیدرآباد کی اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم نے ناگپور ایرپورٹ پر اس وقت گرفتار کرلیا تھا جب وہ داعش میں شمولیت کیلئے شام جانے کا منصوبہ بنارہے تھے ۔ ایس آئی ٹی نے عبداللہ باسط کے علاوہ معاذ حسن فاروقی اور سید عمر حسینی کو گرفتار کیا تھا اور یہ مقدمہ زیرالتواء ہے ۔ عبداللہ باسط کے خلاف ایس آئی ٹی نے سال 2017 ء میں بھی ایک مقدمہ اُس وقت درج کیا تھا جب ایک ٹی وی چیانل نے مبینہ اسٹینگ آپریشن کے دوران ان کے خفیہ بیانات ریکارڈ کرکے چیانل پر عام کردیا تھا لیکن اس کیس میں چیانل کی جانب سے ریکارڈنگ کی اصلی ویڈیو فراہم کرنے میں ناکام ہونے کے نتیجہ میں مقدمہ بند کردیا گیا تھا ۔ اسی دوران آج نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی کے عہدیداروں کی جانب سے پرانے شہر کے علاقے شاہین نگر میں پھر ایک مرتبہ پہونچنے پر سنسنی پھیل گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ محمد عبدالقدیر جسے گزشتہ ہفتہ حراست میں لیکر پوچھ تاچھ کی گئی تھی کے مکان این آئی ٹی پہونچ کر گرفتاری کی اطلاع کی نوٹس مکان پر چسپاں کردی ۔ این آئی اے عہدیدار قدیر کے والد محمد عبدالقدوس کو نوٹس حوالے کرنے کیلئے پہونچے تھے لیکن مکان مقفل ہونے کے نتیجہ میں نوٹس کو دروازے پر ہی چسپاں کردیا گیا ہے ۔ عبدالقدوس نے کہا کہ ان کے بیٹے کا داعش سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ صرف مساجد میں دینی کتب فروخت کیا کرتا تھا ۔

Read More
  • 298
Loading ···
No more